مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
من كان يقول: الماء من الماء باب: جن حضرات کا کہنا ہے پانی کے بدلے پانی ہے یعنی منی نکلنے کی صورت میں ہی غسل واجب ہوگا
حدیث نمبر: 967
٩٦٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن هلال بن يساف عن (خرشة) (١) ابن حبيب عن علي أنه قال في الغسل من الجماع: إذا لم ينزل، (فلم يغتسل) (٢)؟ قيل: وإن هزها به؟ (قال: وإن هزها به) (٣) حتى يهتز قرطاها! (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس جماع کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں انزال نہ ہو کہ غسل واجب ہوگا یا نہیں ؟ فرمایا غسل واجب نہیں۔ کسی نے پوچھا خواہ آدمی عورت پر حرکت طاری کرے پھر بھی نہیں ؟ فرمایا نہیں اگر اس کی بالیاں ہلا دے پھر بھی نہیں۔
حواشی
(١) في حاشية [جـ]: (قال ابن المديني: مجهول الميزان).
(٢) في [أ، خ]: (فلم يغسل).
(٣) سقط من: [أ، هـ].
(٤) مجهول فيه علة؛ خرشة مجهول، أخرجه مسدد كما في المطالب (١٨٧)، وابن سعد ٦/ ٢٣٨، وابن المنذر (٥٦٦) والبخاري في التاريخ (٣/ ١٩٥).