مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
من كان يقول: الماء من الماء باب: جن حضرات کا کہنا ہے پانی کے بدلے پانی ہے یعنی منی نکلنے کی صورت میں ہی غسل واجب ہوگا
حدیث نمبر: 966
٩٦٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن ذكوان عن أبي سعيد: أن رسول اللَّه ﷺ مر على رجل من الأنصار، فأرسل إليه، فخرج ورأسه يقطر، فقال: "لعلنا أعجلناك؟ " فقال: نعم يا رسول اللَّه. قال: "إذا أعجلت أو (أقحطت) (١)؛ فعليك الوضوء، ولا غسل عليك" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصاری کے گھر کے پاس سے گزر رہے تھے کہ پیغام بھیج کر انہیں بلوایا۔ وہ حاضر ہوئے تو اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ شاید ہم نے آپ کو جلدی بلا لیا۔ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم جماع کرو اور انزال نہ ہو تو صرف وضو لازم ہے غسل لازم نہیں۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، خ، د، ك، هـ]: (أقحطت)، وفي [هـ]: (أقحت).