حدیث نمبر: 9607
٩٦٠٧ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت: كان عاشوراء يومًا تصومه قريش في الجاهلية، فلما قدم رسول اللَّه ﷺ المدينة صامه وأمر بصيامه، فلما فرض رمضان كان (١) هو الفريضة وترك عاشوراء، فمن شاء ⦗٢٠⦘ صامه ومن شاء تركه (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشوراء کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ رمضان کے روزے فرض ہیں اور عاشوراء کے روزے کی فرضیت ختم ہوگئی ہے۔ اگر کوئی چاہے تو روزہ رکھے اور اگر چاہے تو نہ رکھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ك] زيادة: (رمضان).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9607
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيحع، أخرجه البخاري (٢٠٠٢) ومسلم (١١٢٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9607، ترقيم محمد عوامة 9448)