حدیث نمبر: 952
٩٥٢ - [حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن معمر بن أبي (حبيبة) (١) مولى ابنة صفوان- عن (عبيد) (٢) بن رفاعة ابن رافع عن أبيه رفاعة بن رافع قال: بينا أنا عند عمر بن الخطاب (إذ) (٣) دخل عليه رجل، فقال يا أمير المؤمنين، هذا زيد بن ثابت يفتي الناس في المسجد برأيه في الغسل من الجنابة، فقال عمر: عليَّ به، فجاء زيد، (فلما رآه) (٤) عمر، قال: أي (عدو) (٥) نفسه؛ قد بلغت أن تفتي الناس برأيك؟ فقال: يا أمير المؤمنين باللَّه ما فعلت، (لكني) (٦) سمعت من أعمامي حديثا فحدثت به من (أبي) (٧) أيوب ومن أُبيّ ابن كعب ومن رفاعة (بن رافع) (٨) فأقبل عمر على رفاعة بن رافع، فقال: وقد كنتم تفعلون ذلك (إذا أصاب أحدكم من المرأة فأكسل لم يغتسل؟ فقال: قد كنا نفعل ذلك) (٩) على عهد رسول اللَّه ﷺ، فلم يأتنا من اللَّه فيه تحريم، ولم يكن من رسول اللَّه ﷺ فيه نهي. قال: (و) (١٠) رسول اللَّه ﷺ يعلم ذاك؟ قال: لا أدري، فأمر عمر بجمع المهاجرين والأنصار، فجمعوا، له فشاورهم فأشار الناس: أن لا ⦗١٩٠⦘ غسل في ذلك إلا ما كان من معاذ وعلي، فإنهما قالا: إذا جاوز الختان الختان، فقد وجب الغسل، فقال عمر: هذا وأنتم أصحاب بدر وقد اختلفتم، فمن بعدكم أشد اختلافا. (قال) (١١): فقال علي: يا أمير المؤمنين، إنه ليس أحد أعلم بهذا من شأن رسول اللَّه ﷺ من أزواجه، (فأرسل إلى حفصة فقالت: لا علم لي بهذا) (١٢)، فأرسل إلى عائشة، فقالت: إذا جاوز الختان الختان، فقد وجب الغسل، فقال عمر: لا أسمع برجل فعل ذلك؛ إلا أوجعته ضربا] (١٣) (١٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت رفاعہ بن رافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت عمر کے پاس حاضر تھے کہ ایک شخص وہاں آیا۔ کسی آدمی نے کہا اے امیر المؤمنین ! یہ زید بن ثابت ہیں جو لوگوں کو غسل جنابت کے بارے میں اپنی رائے سے فتویٰ دیتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا انہیں میرے پاس لاؤ۔ وہ آئے تو حضرت عمر نے ان سے کہا ” اے اپنی جان کے دشمن ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگوں کو اپنی رائے سے فتویٰ دیتے ہو ؟ “ انہوں نے کہا اے امیر المؤمنین ! خدا کی قسم میں نے ایسا نہیں کیا بلکہ میں نے اپنے ان محترم حضرات سے کچھ احادیث سنیں اور انہیں آگے بیان کردیا : حضرت ابو ایوب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت رفاعہ بن رافع۔ پھر حضرت عمر حضرت رفاعہ بن رافع کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا کہ کیا تم ایسا کیا کرتے تھے کہ تم میں کوئی شخص عورت سے بغیر انزال کے جماع کرنے کے بعد غسل نہیں کرتا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایسا کرتے تھے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حرمت یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے کوئی نہی وارد نہیں ہوئی۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم تھا۔ حضرت رفاعہ نے فرمایا میں یہ نہیں جانتا۔ پھر حضرت عمر نے انصار و مہاجرین کو جمع فرمایا اور اس بارے میں ان سے مشورہ کیا سب لوگوں نے مشورہ دیا کہ اس میں غسل نہیں ہے۔ لیکن حضرت معاذ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم اصحاب بدر ہو کر اختلاف کرتے ہو تو بعد کے لوگ تم سے زیادہ اختلاف کریں گے ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے امیر المؤمنین ! میرے خیال میں اس بارے میں ازواج مطہرات سے زیادہ علم کسی کو نہیں ہوسکتا۔ اس بارے میں حضرت حفصہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے لا علمی کا اظہار کیا، جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا، اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر میں نے کسی آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ شرم گاہوں کے ملنے کے باوجود غسل سے اجتناب کرتا ہے تو میں اسے تکلیف دہ سزا دوں گا۔

حواشی
(١) في [جـ، خ، ك]: (حيية) وفي [أ]: (حنية)، وفي حاشية [خ]: (ويقال: أبي حبيبة).
(٢) في [جـ، د، هـ]: (عبيد اللَّه).
(٣) في [هـ]: (إذا).
(٤) في [خ]: (فلما راء).
(٥) في [خ، ك]: (عدي) بالياء.
(٦) في [أ، خ]: (ولكني).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) سفط من: [أ، جـ، خ، د، ك].
(٩) في [أ، خ]: سقطت.
(١٠) زيادة في [أ، خ، ك].
(١١) في [خ]: لم ترد (قال).
(١٢) سقط من: [أ، ل].
(١٣) في [هـ]: تكرر هذا الحديث.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 952
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن، ابن إسحاق توبع، أخرجه أحمد (٢١٠٩٦) والطحاوي ١/ ٥٨، والطبراني (٤٥٣٧) والبزار (٣٧٣٠) (٣٢٥ كشف)، وأصل الحديث في مسلم (٣٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 952، ترقيم محمد عوامة 952)