مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
من كره أن يصوم يوما يوقته أو شهرا يوقته أو يقوم ليلة يوقتها باب: کسی دن یا مہینے کو مقرر کرکے روزہ رکھنا یا کسی رات کو مقرر کرکے اس میں عبادت کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
حدیث نمبر: 9500
٩٥٠٠ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج عن عطاء قال: كان ابن عباس ينهى عن (إفراد) (٢) اليوم كل (ما مر بالإ) (٣) نسان وعن صيام الأيام المعلومة وكان ينهى عن صيام الأشهر لا يخطئن (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کسی دن کو کوئی خصوصی امتیاز دینے، یا مخصوص دنوں میں روزہ رکھنے یا مخصوص مہینوں میں اس طرح روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ اسے کبھی نہ چھوڑا جائے۔
حواشی
(١) في [أ]: (بكير).
(٢) في [ز، ك]: (افتراد) وفي [ص]: (إقتراد).
(٣) في [ب]: بياض.
(٤) منقطع حكمًا؛ ابن جريج مدلس.