حدیث نمبر: 9497
٩٤٩٧ - حدثنا شبابة بن سوار عن شعبة عن قتادة عن (أبي) (١) أيوب (العتكي) (٢) عن جويرية أن النبي ﷺ دخل عليها وهي صائمة يوم الجمعة فقال: "أصمت أمس؟ " قالت: لا، قال: " (أ) (٣) فتصومين غدًا؟ " قالت: (لا) (٤)، قال: "فأفطري" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو ایوب عتکی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن حضرت جویریہ بنت حارث کے پاس تشریف لائے۔ ان کا روزہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا کل تمہارا روزہ تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپ نے پوچھا کہ کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو ۔

حواشی
(١) سقط من: [أ].
(٢) في [ص]: (الفتكي)، وفي [أ]: (الفقبلي).
(٣) سقط من: [أ، ص، ز، ك].
(٤) سقط من: [أ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9497
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٩٨٦) وأحمد (٢٦٧٥٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9497، ترقيم محمد عوامة 9341)