حدیث نمبر: 9491
٩٤٩١ - (حدثنا) (١) ابن (عيينة) (٢) عن عمران بن ظبيان عن حكيم بن سعد عن علي بن أبي طالب ﵁ ورحمه) (٣) قال: من كان منكم متطوعًا من الشهر أيامًا فليكن صومه يوم الخميس، ولا (يصم) (٤) يوم الجمعة، فإنه يوم طعام وشراب وذكر (أ) (٥) فيجمع اللَّه يومين صالحين يوم صيامه ويوم نسكه مع المسلمين (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ تم میں سے کسی نے اگر کسی مہینے میں نفلی روزہ رکھنا ہو تو وہ جمعرات کو روزہ رکھے، جمعہ کو روزہ نہ رکھے کیونکہ جمعہ کا دن کھانے، پینے اور ذکر کا دن ہے۔ جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے آدمی دو صالح دنوں کو جمع کردیتا ہے ایک روزہ کے دن کو اور دوسرا مسلمانوں کے ساتھ کھانے پینے کے دن کو۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ص، ز، ك].
(٢) في [ص، هـ]: (علية).
(٣) في [أ]: (﵁ ورحمه) وفي [ك]: ﵀ كذا في [ب]، وسقط من [ص]. وفي [هـ]: (كرم اللَّه وجهه).
(٤) في [أ، هـ]: (يصوم).
(٥) سقط من: [أ، ب، ص، ز، ك].