حدیث نمبر: 9489
٩٤٨٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن عبد اللَّه بن عمرو قال: دخل رسول اللَّه ﷺ على جويرية بنت الحارث يوم الجمعة ⦗٥٤٨⦘ وهي صائمة قال: (فقال) (١): "صمت أمس؟ " قالت: لا. قال: "تريدين أن (تصومي) (٢) غدًا؟ " قالت: لا. قال: "فافطري إذن" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن حضرت جویریہ بنت حارث کے پاس تشریف لائے۔ ان کا روزہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا کل تمہارا روزہ تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپ نے پوچھا کہ کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو ۔

حواشی
(١) في [أ، ص، ز]: (فقالت).
(٢) في [أ، ز، هـ]: (توصمين) وفي [ك]: (تصوموا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9489
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٦٧٧١) وابن حبان (٣٦١١) وابن خزيمة (٢١٦٢) والنسائي في الكبرى (٢٧٥٣) وعبد الرزاق (٧٨٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9489، ترقيم محمد عوامة 9333)