حدیث نمبر: 9338
٩٣٣٨ - حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن قال: إذا تسحر الرجل فقد وجب عليه الصوم فإن أفطر فعليه القضاء، (وإن) (١) هم بالصوم فهو بالخيار (فإن) (٢) شاء صام وإن شاء أفطر، وإن مسألة إنسان فقال: أصائم أنت؟ فقال: نعم، فقد وجب عليه الصوم إلا أن يقول: إن شاء اللَّه؛ فإن قال فهو بالخيار إن شاء (صام) (٣) وإن شاء أفطر.
مولانا محمد اویس سرور

حسن فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے سحری کھالی تو اس پر روزہ واجب ہوگیا۔ اگر اس نے روزہ توڑ دیا تو اس پر قضاء واجب ہے۔ اگر اس نے روزے کا محض ارادہ کیا توا سے اختیار ہے۔ اگر چاہے توروزہ رکھے اور اگر چاہے تو روزہ نہ رکھے۔ اگر کسی نے اس سے سوال کیا کہ کیا تمہارا روزہ ہے ؟ اس نے جواب میں ہاں کہا تو اس پر روزہ واجب ہوگیا۔ البتہ اگر اس نے ان شاء اللہ کہا تو پھر روزہ واجب نہیں ہوا۔ اس صورت میں اسے اختیار ہے چاہے توروزہ رکھے اور چاہے تو نہ رکھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ك]: (فإن).
(٢) في [أ، ب، ك]: (فإن).
(٣) في [هـ]: (طعم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9338
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9338، ترقيم محمد عوامة 9183)