مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
من قال: يجزئك أن تفركه من ثوبك باب: جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
حدیث نمبر: 932
٩٣٢ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن العباس بن عبد الرحمن (عن) (١) جبير ⦗١٨٥⦘ ابن نفير الحضرمي: أنه أرسل إلى عائشة، (فسألها) (٢) عن المرفقة يجامع عليها الرجل، أيقرأ عليها المصحف؟ قالت: وما يمنعك من ذلك؟ إن رأيته؟ فاغسله، وإن شئت فاحككه، وإن رابك فرشه (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن نفیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی کو بھیج کر پوچھوایا کہ جس کپڑے پر آدمی بیوی سے جماع کرتا ہے اس پر قرآن مجید کی تلاوت کرسکتا ہے ؟ فرمایا اس میں کیا رکاوٹ ہے۔ اگر کوئی چیز ہے تو اسے دھو لو اور چاہو تو کھرچ لو اور اگر تمہیں شک ہو تو پانی چھڑک لو۔
حواشی
(١) في [جـ، ك]: (بن).
(٢) في [جـ، ك]: (يسألها).
(٣) فيه جهالة؛ لحال العباس بن عبد الرحمن.