مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
ما قالوا في الرجل يرى أن الشمس قد غربت باب: اگر کوئی شخص غروبِ شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 9300
٩٣٠٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب قال: أخرجت (عساس) (١) من بيت حفصة وعلى السماء سحاب فظنوا أن الشمس قد غابت فأفطروا فلم يلبثوا أن تجلى السحاب فإذا الشمس طالعة فقال عمر: (ما تجانفنا) (٢) من إثم (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت حفصہ کے گھر سے کھانے کا ایک بڑا برتن لایا گیا تو لوگ سمجھے کہ سورج غروب ہوگیا۔ اس دن بادل تھے، اس پر لوگوں نے روزہ افطار کرلیا۔ کچھ دیر بعد بادل چھٹے تو چمکتا سورج نظر آنے لگا۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ ہم گناہ سے نہیں بچ سکے۔
حواشی
(١) في حاشية [هـ،]: (العس بضم العين: القدح الكبير، وجمعه: عساس)، وفي حاشية [ص]: (العس: القدح الكبير، وجمعه عساس وأعساس- ا. هـ النهاية).
(٢) في [ص]: (ما خالعنا)؛ وفي [ز]: (بحانعا) وفي [هـ]: (تحابقنا).