حدیث نمبر: 9275
٩٢٧٥ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن عمرو بن مرة عن أبي البختري قال: خرجنا للعمرة فلما نزلنا ببطن نخلة قال: (تراءينا) (١) الهلال، قال بعض القوم: هو ⦗٥٠٢⦘ ابن ثلاث، وقال بعض القوم: هو ابن ليلتين، [فلقينا ابن عباس فقلنا: إنا رأينا الهلال، فقال بعض القوم: هو ابن ثلاث، وقال: بعض القوم: هو ابن ليلتين] (٢)، فقال: أي ليلة رأيتموه؟ قال: فقلنا: ليلة كذا وكذا، فقال: إن رسول اللَّه ﷺ قال: "إن اللَّه مده للرؤية فهو لليلة رأيتموه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو بختری فرماتے ہیں کہ ہم عمرہ کے لئے روانہ ہوئے، جب ہم مقام بطن نخلہ پہنچے تو ہم نے کہا کہ ہمیں چاند نظر آگیا ہے، کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری رات کا چاند ہے، کچھ نے کہا کہ یہ دوسری رات کا چاند ہے۔ اس پر ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملے اور ہم نے کہا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ تیسری رات کا چاند ہے اور کچھ نے کہا کہ یہ دوسری رات کا چاند ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم نے یہ چاند کب دیکھا ؟ ہم نے کہا کہ فلاں رات میں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چاند کی رؤیت کو لمبا کیا ہے، چاند کی رات وہ ہوگی جس رات تم اسے دیکھو۔

حواشی
(١) في [ص، ك]: (تراينا) وكذلك في [أ، ز]. وفي [هـ]: (ترايينا).
(٢) سقط من: [ب، ص].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9275
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (١٠٨٨) وأحمد (٣٠٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9275، ترقيم محمد عوامة 9120)