حدیث نمبر: 927
٩٢٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أبي مالك الأشجعي (سعد) (١) بن طارق قال: قلت للشعبي: (أصبحت) (٢) وفي ثوبي لمعة جنابة؟ قال: أعركه (ثم) (٣) انفضه قال، قلت: اغسله؟ قال: يزيده (نتنا) (٤)، قال أبو مالك: فظننت أنه لو كان رطبا، أمره بغسله.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مالک اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے پوچھا کہ اگر صبح کے وقت میں منی کا نشان دیکھوں تو کیا کروں ؟ فرمایا اسے رگڑو اور جھاڑ دو ۔ میں نے عرض کیا کہ کیا میں اسے دھویا کروں۔ فرمایا کہ دھونے سے اس کی بدبو میں اضافہ ہوگا۔ حضرت ابو مالک کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اگر وہ تر ہوتی تو اسکے دھونے کا حکم دیتے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (عن سعيد).
(٢) لم ترد في [أ، خ].
(٣) في [هـ]: (قال).
(٤) في [د، هـ]: (ثبتا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 927
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 927، ترقيم محمد عوامة 927)