حدیث نمبر: 925
٩٢٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن (همام) (١) قال: نزل بعائشة ضيف، فأمرت له بملحفة صفراء، فاحتلم فيها، فاستحيا أن يرسل بها وفيها أثر الاحتلام، فغمسها في الماء، ثم أرسل بها، فقالت عائشة: لم أفسد علينا ثوبنا؟ إنما كان يكفيه أن يفركه بأصبعه، ربما فركته من ثوب رسول اللَّه ﷺ بأصبعي (٢).
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ہمام ایک مرتبہ مہمان کے طور پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں حکم دیا کہ ایک زرد چادر ان کے لئے دی جائے۔ حضرت ھمام کو اس میں احتلام ہوگیا۔ انہیں شرم محسوس ہوئی کہ احتلام کے نشان کے ساتھ کپڑا واپس کیا جائے۔ چناچہ انہوں نے کپڑے کو پانی میں ڈبو کر واپس کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کپڑا دیکھا تو فرمایا انہوں نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کردیا ؟ ان کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اسے کھرچ دیتے، میں بھی بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑوں سے اسے کھرچ دیا کرتی تھی۔

حواشی
(١) في حاشية [خ]: (ابن الحارث العابد)، وفي حاشية [ك]: (الضيف هو عبد اللَّه بن شهاب الخولاني).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 925
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الترمذي (١١٦) وابن ماجة (٥٣٨) وأحمد (٢٤١٥٨) وأخرجه بنحوه مسلم (٢٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 925، ترقيم محمد عوامة 925)