مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
من قال: يجزئك أن تفركه من ثوبك باب: جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
٩٢٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن (همام) (١) قال: نزل بعائشة ضيف، فأمرت له بملحفة صفراء، فاحتلم فيها، فاستحيا أن يرسل بها وفيها أثر الاحتلام، فغمسها في الماء، ثم أرسل بها، فقالت عائشة: لم أفسد علينا ثوبنا؟ إنما كان يكفيه أن يفركه بأصبعه، ربما فركته من ثوب رسول اللَّه ﷺ بأصبعي (٢).ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ہمام ایک مرتبہ مہمان کے طور پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں حکم دیا کہ ایک زرد چادر ان کے لئے دی جائے۔ حضرت ھمام کو اس میں احتلام ہوگیا۔ انہیں شرم محسوس ہوئی کہ احتلام کے نشان کے ساتھ کپڑا واپس کیا جائے۔ چناچہ انہوں نے کپڑے کو پانی میں ڈبو کر واپس کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کپڑا دیکھا تو فرمایا انہوں نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کردیا ؟ ان کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اسے کھرچ دیتے، میں بھی بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑوں سے اسے کھرچ دیا کرتی تھی۔