مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
من قال: إذا صام في السفر لم يجزه باب: جن حضرات کے نزدیک سفر میں رکھا جانے والا روزہ قابلِ قبول نہیں
حدیث نمبر: 9244
٩٢٤٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي الفيض قال: كنا في غزوة فكان علينا (أمير) (١) فقال: لا تصومن، فمن صام فليفطر، قال أبو الفيض: فلقيت أبا قرصافة (٢) رجلًا من أصحاب النبي ﷺ فسألته عن ذلك فقال: لو صمت (ثم صمت) (٣) ما قضيت (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو فیض فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے اور ایک صاحب ہمارے امیر تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔ ابو فیض کہتے ہیں کہ میں ایک صحابی حضرت ابو قرصافہ کو ملا اور میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں روزہ رکھوں اور پھر روزہ رکھوں تو میں نے قضاء نہیں کی۔
حواشی
(١) في [ص]: (أمين).
(٢) في [هـ]: زيادة (كان).
(٣) زائدة في [أ، ص، ز، ك]: (ثم صمت).