مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
من كره صيام رمضان في السفر باب: جن حضرات کے نزدیک دورانِ سفر رمضان کا روزہ رکھنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 9219
٩٢١٩ - حدثنا أبو داود (عمر) (١) بن سعد عن سفيان عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ كان في سفر ومعه أبو بكر وعمر فأتي بطعام فقال لهما: "ادنوا (فكلا) (٢) "، فقالا: يا رسول اللَّه إنا صائمان، فقال: " (ارحلوا) (٣) (بصاحبيكم) (٤) اعملوا (بصاحبيكم) (٥) ⦗٤٨٩⦘ ادنوا (فكلا) (٦) " (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ کے پاس کھانا لایا گیا تو آپ نے ان دونوں حضرات سے فرمایا کہ آؤ اور کھالو۔ ان دونوں حضرات نے کہا کہ ہمارا روزہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے دونوں ساتھیوں کے لئے کجاوہ تیار کرو، اپنے دونوں ساتھیوں کے لئے کام کرو، دونوں قریب ہوجاؤ اور کھانا کھاؤ۔
حواشی
(١) في [أ]: (عمرو).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (وكلا).
(٣) في [ب، ز]: (ارحلوا) وكذا في [ص، ك، هـ] وفي [أ]: (ادخلوا).
(٤) في [أ]: (بصاحبتكم) وفي [هـ، ص، ز، ك]: (بصاحبكم).
(٥) في [أ]: (بصاحبتكم) وفي [هـ، ص، ز، ك]: (بصاحبكم).
(٦) في [أ، ط، هـ]: (وكلا).