حدیث نمبر: 9189
٩١٨٩ - حدثنا زياد بن الربيع وكان ثقة عن أبي (جمرة) (١) الضبعي أنه كان يفطر مع ابن عباس في رمضان، فكان إذا أمسى بعث (ربيبة له تصعد) (٢) ظهر الدار (فلما غربت) (٣) الشمس أذن، (فيأكل ونأكل) (٤)، فإذا (فرغ) (٥) أقيمت الصلاة، فيقوم يصلي (ونصلي) (٦) معه (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جمرہ ضبعی کہتے ہیں کہ میں نے رمضان میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ افطاری کی ہے۔ جب شام ہونے لگتی تو وہ ایک بچی کو چھت پر بھیج دیتے۔ جب سورج غروب ہوتا تو وہ اعلان کردیتی، اس پر وہ کھانا کھاتے اور ہم بھی کھانا کھاتے۔ جب کھانے سے فارغ ہوتے تو نماز کھڑی ہوجاتی وہ نماز پڑھاتے اور ہم ان کے ساتھ نماز پڑھتے۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، ز، هـ]: (حمزة).
(٢) في [هـ]: (ربيبة له يصعد).
(٣) في [ص]: (فإذا غابت)، وفي [ز]: (فإذا غربت).
(٤) في [ص]: (فتأكل وتأكل) وفي [أ]: (فيأكل وتأكل).
(٥) سقط من: [أ].
(٦) في [ص]: (ويصلي).