حدیث نمبر: 9186
٩١٨٦ - حدثنا عفان (قال) (١) حدثنا شعبة عن (خبيب) (٢) بن عبد الرحمن قال: سمعت (عمتي) (٣) تقول: وكانت حجت مع النبي ﷺ قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن ابن أم مكتوم ينادي بليل فكلوا واشربوا حتى ينادي بلال وإن بلالا ⦗٤٨٠⦘ يؤذن بليل فكلوا واشربوا حتى ينادي ابن أم مكتوم". (قالت) (٤): وكان يصعد هذا وينزل هذا، فكنا نتعلق به فنقول: كما أنت حتى نتسحر (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت خبیب بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی ایک پھوپھی جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا تھا سے فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابن ام مکتوم رات کو اذان دے تو تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ بلال اذان دے دے۔ اگر بلال رات کو اذان دے دے تو تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے دے۔ وہ فرماتی ہیں کہ ان دونوں مؤذنین میں سے ایک منارے پر چڑھتا تھا اور دوسرا اترتا تھا۔ ہم ان سے کہتے تھے کہ تم جو بھی کرو ہم سحری کھائیں گے۔

حواشی
(١) زيادة في [ص].
(٢) في [أ]: (حبيبًا) وفي [هـ، ص]: (حبيب).
(٣) في [ز]: (عمي).
(٤) في [ص]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9186
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٢٧٤٣٩) والنسائي (٢/ ١٠)، وابن خزيمة (٤٠٥)، وابن حبان (٣٤٧٤)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٣٤٥)، والطيالسي (١٦٦١)، وابن سعد (٨/ ٣٦٤)، والطحاوي (١/ ١٣٨)، والبيهقي ١/ ٣٨٢ والطبراني ٢٤/ (٤٨٠) والمزي (٥/ ١٣٤)، وابن بشكوال في غوامض الأسماء (٢/ ٨٣٠) وابن حزم في المحلى (٦/ ٢٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9186، ترقيم محمد عوامة 9033)