مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
من (كان) يستحب تأخير السحور باب: جو حضرات سحری میں تاخیر کو پسند فرماتے تھے
٩١٨٦ - حدثنا عفان (قال) (١) حدثنا شعبة عن (خبيب) (٢) بن عبد الرحمن قال: سمعت (عمتي) (٣) تقول: وكانت حجت مع النبي ﷺ قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن ابن أم مكتوم ينادي بليل فكلوا واشربوا حتى ينادي بلال وإن بلالا ⦗٤٨٠⦘ يؤذن بليل فكلوا واشربوا حتى ينادي ابن أم مكتوم". (قالت) (٤): وكان يصعد هذا وينزل هذا، فكنا نتعلق به فنقول: كما أنت حتى نتسحر (٥).حضرت خبیب بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی ایک پھوپھی جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا تھا سے فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابن ام مکتوم رات کو اذان دے تو تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ بلال اذان دے دے۔ اگر بلال رات کو اذان دے دے تو تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے دے۔ وہ فرماتی ہیں کہ ان دونوں مؤذنین میں سے ایک منارے پر چڑھتا تھا اور دوسرا اترتا تھا۔ ہم ان سے کہتے تھے کہ تم جو بھی کرو ہم سحری کھائیں گے۔