مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
من (كان) يستحب تأخير السحور باب: جو حضرات سحری میں تاخیر کو پسند فرماتے تھے
حدیث نمبر: 9185
٩١٨٥ - حدثنا ابن فضيل عن ابن أبي خالد عن الشعبي قال: كان حذيفة يعجل بعض سحوره ليدرك الصلاة مع رسول اللَّه ﷺ، فبلغ ذلك النبي ﷺ، (فكان يرسل إليه) (١) فيأكل معه حتى يخرجا إلى الصلاة جميعا (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جماعت کی نماز میں شریک ہونے کے لئے جلدی سحری کھالیتے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ کسی کو بھیج کر انہیں بلا لیا کرتے تھے اور ان کے ساتھ سحری کھاتے تھے، پھر دونوں حضرات اکٹھے جماعت کے لئے جاتے تھے۔
حواشی
(١) سقط من: [ص].