مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
من (كان) يستحب تأخير السحور باب: جو حضرات سحری میں تاخیر کو پسند فرماتے تھے
حدیث نمبر: 9183
٩١٨٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه قال: خرجت مع حذيفة إلى المدائن في رمضان، فلما طلع الفجر قال: هل كان أحد منكم ⦗٤٧٩⦘ (آكلا) (١) (أو) (٢) شاربًا؟ قلنا: (أما) (٣) رجل (يريد) (٤) الصوم فلا، (ثم) (٥) سرنا حتى استبطأناه في الصلاة (ثم نزل) (٦) فصلى (٧).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی کے والد کہتے ہیں کہ میں رمضان میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر پر نکلا، جب فجر طلوع ہوئی تو انہوں نے کہا کہ کیا تم میں سے کسی نے کچھ کھایا یاپیا ہے ؟ ہم نے کہا کہ جو لوگ روزہ کا ارادہ رکھتے ہیں انہوں نے کچھ نہیں کھایا پیا۔ پھر ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں نماز کا کہا اور وہ سواری سے اترے اور نماز پڑھی۔
حواشی
(١) في [ب]: (أكالًا).
(٢) في [ص]: (و).
(٣) في [ف]: [ما].
(٤) في [ك]: (يرتد).
(٥) في [أ]: (أثم).
(٦) في [ص]: (فلم يزل).