مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
من (كان) يستحب تأخير السحور باب: جو حضرات سحری میں تاخیر کو پسند فرماتے تھے
حدیث نمبر: 9181
٩١٨١ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا الوليد بن (جميع) (١) قال: ثنا أبو الطفيل أنه تسحر (في) (٢) أهله في الجبانة ثم جاء إلى حذيفة وهو في دار الحارث بن أبي ربيعة فوجده فحلب له ناقة فناوله فقال: إني أريد الصوم، فقال: وأنا أريد الصوم، فشرب حذيفة وأخذ بيده فدفع إلى المسجد حين أقيمت الصلاة (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ میں نے جبانہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سحری کی، پھر میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ حارث بن ابی ربیعہ کے گھر تھے۔ اس وقت حارث بن ابی ربیعہ نے اپنی اونٹنی کا دودھ دوہا اور اسے پی لیا اور کہا کہ میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ پس حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بھی دودھ پیا۔ پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حارث کا ہاتھ پکڑا اور انہیں مسجدلے گئے جہاں نماز کھڑی ہوگئی تھی۔
حواشی
(١) في [ز]: (جميع).
(٢) في [ص]: (مع)، وفي [هـ]: (جمع).