مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
من قال: اغسل من ثوبك موضع أثره باب: جن حضرات کے نزدیک منی کو دھونا ضروری ہے
حدیث نمبر: 918
٩١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن عمرو بن ميمون قال: سألت سليمان بن يسار عن الثوب يصيبه المني أيغسله أو يغسل (الثوب) (١) كله؟ قال سليمان: قالت عائشة: كان النبي ﷺ يصيب (ثوبه) (٢)، فيغسله من ثوبه، ثم يخرج في ثوبه إلى الصلاة وأنا أرى أثر الغسل فيه (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سلیمان بن یسار سے پوچھا کہ اگر کپڑے کو منی لگ جائے تو منی کی جگہ کو دھونا ہے یا سارے کپڑے کو دھونا ہے۔ فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے پر اگر منی لگ جاتی تو کپڑے سے منی کی جگہ دھو لیتے تھے اور پھر انہی کپڑوں میں نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے، جب کہ مجھے کپڑوں میں دھونے کا نشان نظر آ رہا ہوتا تھا۔
حواشی
(١) زيادة في [أ، جـ، خ، ك].
(٢) حاشية في [خ]: (المني).