٩١٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون وأبو أسامة قال: أخبرنا هشام بن حسان عن واصل (مولى) (١) أبي (عيينة) (٢) قال: حدثني لقيط عن أبي بردة عن أبي موسى قال: كنا في البحر فبينا نحن نسير وقد رفعنا الشراع ولا نرى جريرة ولا شيئا إذ سمعنا مناديا ينادي: يا أهل السفينة قفوا (أخبركم) (٣)، فقمنا ننظر فلم (نر) (٤) ⦗٤٦٩⦘ شيئا، فنادى سبعا فلما كانت السابعة قمت فقلت: يا هذا أخبرنا ما تريد أن تخبرنا به فإنك ترى حالنا ولا نستطيع أن نقف (عليك) (٥)، قال: ألا أخبركم بقضاء قضاه اللَّه على نفسه: أيما عبد أظمأ نفسه في اللَّه في يوم حار أرواه اللَّه يوم القيامة، (زاد) (٦) أبو أسامة فكنت (لا تشاء) (٧) أن ترى أبا موسى صائما في يوم بعيد ما بين الطرفين إلا رأيته (٨).حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سمندر میں سفر کررہے تھے، ہم نے اپنے بادبان بلند کر رکھے تھے۔ ہمیں کوئی جزیرہ دکھائی نہ دے رہا تھا اور نہ کوئی دوسری چیز ہمیں نظر آرہی تھی۔ اتنے میں ہمیں آواز آئی اے کشتی والو ! ٹھہر جاؤ میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں۔ ہم کھڑے ہو کر دیکھنے لگے لیکن ہم کو کچھ نظر نہ آیا۔ اس پکارنے والے نے سات مرتبہ آواز دی۔ ساتویں مرتبہ میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا کہ تو جو کوئی بھی ہے ہمیں وہ بات بتادے جو بتانا چاہتا ہے، تو ہماری حالت کو دیکھ رہا ہے اور جانتا ہے کہ ہم تیرے پاس کھڑے نہں ہوسکتے۔ اس نے کہا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے ایک فیصلے سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جو اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے ! وہ یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے لئے خود کو ایک گرم دن میں پیاسا رکھے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سیراب فرمائیں گے۔ ابو اسامہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد آپ کبھی حضرت ابو موسیٰ کو بغیر روزے کے نہ دیکھ سکتے تھے۔