حدیث نمبر: 9145
٩١٤٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن ثابت عن عبد اللَّه بن رباح قال: خرجنا وفدًا إلى معاوية، فمررنا براهب (فجيء) (١) بالطعام فأكل القوم ولم آكل؛ فقال لي: ما لك لا تأكل؟ (فقلت) (٢): إني صائم، قال: ألا (ألشمك) (٣) على صومك، توضع الموائد فأول من يأكل منها الصائمون.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن رباح فرماتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی صورت میں حضرت معاویہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک راہب سے ہماری ملاقات ہوئی۔ ہم اس کے پاس تھے کہ کھانا لایا گیا۔ لوگوں نے کھانا کھایا لیکن میں نے کھانا نہیں کھایا۔ اس راہب نے مجھ سے پوچھا کہ تم کھانا کیوں نہیں کھاتے ؟ میں نے کہا کہ میرا روزہ ہے۔ اس نے کہا کہ میں تمہیں روزے رکھنے کی تلقین کرتا ہوں کیونکہ ایک وقت دستر خوان بچھائے جائیں گے اور ان سے سب سے پہلے کھانے والے روزہ دار ہوں گے۔
حواشی
(١) في [ص، هـ]: (يجيء).
(٢) في [أ، ب، ز]: (قلت).
(٣) في [أ، ب، ز، ك]: (أكشمك) وفي [ص]: (ألشمك) وفي [هـ]: (أكسمك)، ومعنى ألشمك: ألقنك الحجة.