حدیث نمبر: 9120
٩١٢٠ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي (قال: حدثنا) (١) كثير بن زيد عن ⦗٤٦١⦘ عمرو بن تميم عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (أظلكم) (٢) شهركم هذا بمحلوف رسول اللَّه ﷺ ما دخل على المسلمين شهر خير لهم منه ولا دخل على المنافقين شهر شر لهم منه، (بمحلوف) (٣) رسول اللَّه ﷺ إن اللَّه يكتب أجره ونوافله من قبل أن يوجبه، ويكتب وزره وشقاءه قبل أن يُدخله، وذلك أن المؤمن يُعِدُّ له من النفقة في القوة والعبادة، ويعد (له) (٤) المنافق اتباع غفلات المسلمين واتباع عوراتهم، فهو (غنم) (٥) للمؤمن ونقمة للفاجر، أو قال (يغتم) (٦) (به) (٧) الفاجر" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم پر یہ مہینہ آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم کے ساتھ سن لو کہ مسلمانوں پر اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں آیا اور منافقین پر اس سے بدتر مہینہ کوئی نہیں آیا۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قسم کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس مہینے کے اجر اور نوافل کو اس کے آنے سے پہلے لکھ دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ اور عذاب کو اس کے آنے سے پہلے لکھ لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے مومن کے لئے عبادات اور نیکیوں کی توفیق اور قوت بڑھا دی جاتی ہے اور منافقین کے لئے مسلمانوں کے عیبوں کو تلاش کرنا اور انہیں پھیلانا آسان کردیا جاتا ہے۔ یہ مہینہ مومن کے لئے غنیمت اور فاجر کے لئے مصیبت ہے۔

حواشی
(١) في [ص]: تكرار.
(٢) في [أ، ك]: (أطلكم).
(٣) في [أ]: (بمخلوف) وفي [أ، ك]: (بمجلوف).
(٤) زيادة في [أ، ك، ص، ز]: (له).
(٥) في [ص]: (عتم).
(٦) في [ص، ك، ز]: (يغتنمه).
(٧) سقط من: [ز، ك، ص].
(٨) مجهول؛ والد عمرو بن تميم مجهول، أخرجه أحمد (١٠٧٨٤) وابن خزيمة (١٨٨٤) والبيهقي ٤/ ٣٠٤ والعقيلي في الضعفاء ٣/ ٢٦٠.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9120
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9120، ترقيم محمد عوامة 8968)