حدیث نمبر: 9115
٩١١٥ - حدثنا عبد الرحمن] (١) بن محمد المحاربي عن محمد بن إسحاق عن (الفضل) (٢) الرقاشي عن عمه عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "هذا رمضان قد جاء (تفتح) (٣) فيه أبواب الجنان (وتغلق) (٤) فيه أبواب النار (وتغل) (٥) فيه الشياطين بعدا (لمن) (٦) أدرك رمضان لم يُغفر له (فيه) (٧) إذا لم يُغفر له (فيه) (٨) فمتى" (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رمضان کا مہینہ آگیا ہے، اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، اس میں شیطانوں کو قید کردیا جاتا ہے، اس شخص کے لئے ہلاکت ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی، اگر رمضان میں بھی وہ اپنی مغفرت نہ کرواسکا تو کب کرائے گا ؟

حواشی
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٢) في [ب]: (الفقل).
(٣) في [ب]: (يفتح).
(٤) في [ب]: (ويغلق).
(٥) في [ب]: (وقفل).
(٦) في [ص]: (من)
(٧) سقط من: [ب].
(٨) سقط من: [ص].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9115
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ الفضل الرقاشي متروك، أخرجه أحمد (١٣٤٧٤) والطبراني في الأوسط (٧٦٢٣) والنسائي ٤/ ١٢٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9115، ترقيم محمد عوامة 8963)