٩١١٢ - (حدثنا محمد) (١) بن فضيل عن عطاء بن السائب عن عرفجة قال: كنت عند (عتبة) (٢) بن فرقد وهو يحدثنا عن فضل رمضان، فدخل علينا رجل من أصحاب النبي ﷺ، [فسكت (عتبة) (٣) وكأنه هابه فلما جلس قال له عتبة: يا (أبا) (٤) فلان ⦗٤٥٨⦘ حدثنا بما سمعت من رسول اللَّه ﷺ] (٥) في رمضان، قال: سمعت رسول اللَّه يقول: " (تفتح) (٦) فيه أبواب الجنة (وتغلق) (٧) فيه أبواب النار، و (تصفد) (٨) فيه الشياطين وينادي (مناد) (٩) (في) (١٠) كل ليلة يا [باغي الخير هلم ويا] (١١) باغي الشر أقصر) " (١٢).حضرت عرفجہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عتبہ بن فرقد کے پاس تھا، وہ رمضان کی فضیلت بیان کررہے تھے، اتنے میں ایک صحابی تشریف لائے تو وہ خاموش ہوگئے۔ ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ان کے رعب کی وجہ سے خاموش ہوئے ہیں۔ جب وہ بیٹھ گئے تو حضرت عتبہ نے ان سے کہا کہ اے ابو فلاں ! آپ ہمیں وہ حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رمضان میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، اس میں شیاطین کو باندھ دیا جاتا ہے اور رمضان کی ہر رات ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے اے خیر کو تلاش کرنے والے آگے بڑھ، اے شر کو تلاش کرنے والے بس کردے۔