مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: الشفق (هو) البياض باب: کیا شفق ’’سفیدی‘‘ کا نام ہے؟
٩٠٤٥ - حدثنا كثير (بن) (١) هشام عن جعفر بن برقان قال: كتب إلينا عمر بن عبد العزيز صلوا المغرب حين (أفطر) (٢) الصائم، ثم ذكر في أن أناسًا يعجلون صلاة العشاء قبل أن يذهب بياض الأفق من المغرب، فلا تصلها حتى يذهب بياض الأفق من المغرب (ويغشاه) (٣) ظلمة (الليل) (٤) وما عجلت بعد ذهاب (بياض) (٥) الأفق [من المغرب فإنه أحسن وأصوب وأعلم أن من تمامها وإصابة وقتها ما ذكرت لك في كتابي هذا من ذهاب بياض الأفق] (٦) فإنه بقية من بقية النهار.حضرت جعفر بن برقان کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے ہماری طرف خط لکھا کہ مغرب کی نماز اس وقت ادا کرو جب روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے۔ پھر فرمایا کہ میرے پاس بعض لوگ ایسے ہیں جو عشاء کی نماز کو افق کی سفیدی ختم ہونے سے پہلے پڑھ لیتے ہیں تم عشاء کی نماز اس وقت تک ادا نہ کرو جب تک مغرب کی جانب سے افق کی سفیدی ختم نہ ہوجائے اور جب تک رات کی تاریکی چھانہ جائے۔ تم مغرب کی جانب سے افق کی سفیدی ختم ہونے کے بعد جتنی دیر کرو اتنا ہی اچھا ہے۔ جان لو کہ نماز کا بہترین اور اصل وقت وہی ہے جو میں نے اپنے خط میں ذکر کیا یعنی افق کی سفیدی ختم ہونے کے بعد کا وقت، کیونکہ دن کے ختم ہونے کا اصل وقت یہی ہے۔