حدیث نمبر: 9043
٩٠٤٣ - حدثنا أزهر عن ابن عون عن محمد قال: لما انطلق بحجر (إلى) (١) معاوية قال: السلام عليك يا أمير المؤمنين (قال) (٢): وأمير المؤمنين أنا؟ قال: نعم، قال: لأقتلنك. قال: ثم أمر به ليقتل، فقال: دعوني أصلي ركعتين، فصلى ركعتين تجوز فيهما فقال: لا ترون أني خففتهما جزعا ولكني (كرهت) (٣) أن (أطول) (٤) عليكم ثم قتل (٥).
مولانا محمد اویس سرور

محمد کہتے ہیں کہ جب حجر بن عدی کو حضرت معاویہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے کہا اے امیر المؤمنین ! آپ پر سلامتی ہو ! حضرت معاویہ نے فرمایا کہ کیا میں امیر المؤمنین ہوں ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ حضرت معاویہ نے فرمایا کہ میں پھر بھی تجھے قتل کروں گا۔ پھر آپ نے حجر بن عدی کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ حجر نے کہا کہ مجھے دو رکعت پڑھنے کی اجازت دیجئے۔ اجازت ملنے پر انہوں نے دو مختصر رکعتیں پڑھیں پھر فرمایا کہ تم میرے بارے میں یہ خیال نہ کرنا کہ میں نے کسی خوف کی وجہ سے مختصر نماز پڑھی بلکہ مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں تمہارے سامنے لمبی نماز پڑھوں۔ پھر انہیں قتل کردیا گیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (أبي).
(٢) (قال) زيادة في: [أ، ب، ز، ك].
(٣) في [ز]: (أكرهت).
(٤) في: [ز]: (أطوله).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9043
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٣/ ٥٣٢، والطبراني (٣٥٦٩)، وابن حبان في الثقات (٤/ ١٧٦)، وابن عسكر في تاريخ دمشق ١٢/ ٢٢٧، وابن سعد ٦/ ٢١٩، وأبو العرب في المحن ١/ ١٤٢، والطبري في التاريخ ٣/ ٢٢٠، ويعقوب في المعرفة (٣/ ٣٢٩)، وابن عبد البر في الاستذكار ٥/ ١٢١، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٤٥٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9043، ترقيم محمد عوامة 8895)