حدیث نمبر: 9042
٩٠٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا بن أبي ذئب عن مسلم بن جندب عن الحارث بن برصاء قال: أتي بخبيب فبيع بمكة فاخرجوه من الحرم ليقتلوه فقال: دعوني أصلي ركعتين، فتركوه فصلى ركعتين ثم قال: لولا أن تظنوا بي جزعًا لزدت (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حارث بن برصاء کہتے ہیں کہ حضرت خبیب کو لایا گیا اور مکہ میں بیچ دیا گیا۔ مشرکین نے انہیں قتل کرنے کے لئے حرم سے نکالا تو انہوں نے کہا کہ مجھے دو رکعتیں پڑھنے دو ۔ مشرکین نے انہیں اس کی اجازت دے دی تو انہوں نے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر فرمایا کہ اگر مجھے تمہارے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم کہو گے کہ میں نے موت کے خوف سے لمبی نماز پڑھی ہے تو میں اور لمبی نماز پڑھتا۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9042
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الفاكهي في أخبار مكة (١٧٦٥)، وهذا المعنى من حديث أبي هريرة، أخرجه البخاري (٣٠٤٥)، وأحمد (٨٠٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9042، ترقيم محمد عوامة 8894)