مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كره أن يسجد الرجل للرجل باب: کسی آدمی کے لئے سجدہ کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 9023
٩٠٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر العبدي قال: حدثنا عبد اللَّه بن الوليد قال: (حدثني) (١) عمر (٢) بن محمد بن (حاطب) (٣) قال: قدم عظيم من عظماء الأعاجم على عمر فسأل عن عمر فقيل له إنه (خارج) (٤) (عن) (٥) المدينة فخرج إليه قال: فلقيه وهو مقبل فأهوى الدهقان فسجد -أو ليسجد عبد اللَّه شك- قال: فقال عمر: ارفع رأسك للواحد القهار (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عمر بن محمد بن حاطب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ عجم کا ایک بڑا سردار حضرت عمر سے ملاقات کے لئے حاضر ہوا، اس نے حضرت عمر کے بارے میں سوال کیا۔ اسے بتایا گیا کہ حضرت عمر مدینہ سے باہر ہیں۔ وہ حضرت عمر سے ملاقات کے لئے چلا تو وہ اسے واپس آتے ہوئے مل گئے۔ اس سردار نے حضرت عمر کو سجدہ کرنا چاہا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ اپنے سر کو واحد قہار کے لئے بلند کرلو۔
حواشی
(١) في [هـ]: (حدثنا).
(٢) كذا هنا وفي (اليرموك)، فيما يأتي وكذا في تهذيب الكمال ٢٥/ ٣٥، بينما في التاريخ الكبير ٦/ ١٨٣، والجرح والتعديل ٦/ ١٢٧، والثقات ٥/ ١٥١، والمغني في الضعفاء ٢/ ٤٧١، ولسان الميزان ٤/ ٣٢٠، وميزان الاعتدال ٥/ ٢٥٩ (٦١٨٢) أنه عمر بن عمر بن محمد بن حاطب.
(٣) في [ص]: (حاجب).
(٤) في [أ، ب، ز، ك]: (خارجًا).
(٥) في [أ، ك]: (من).
(٦) مجهول؛ عمر بن محمد بن حاطب مجهول.