حدیث نمبر: 8976
٨٩٧٦ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل قال: ثنا (بيان) (١) عن حكيم بن جابر قال: قال حذيفة: إن من أقرأ الناس (منافقًا) (٢) لا يترك واوًا ولا ألفًا (يلفته) (٣) بلسانه كما (تلفت) (٤) البقرة الخلا بلسانها لا (يجاوز) (٥) ترقوته (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعض اوقات قرآن کا سب سے زیادہ تلاوت کرنے والا وہ منافق ہوتا ہے جو نہ کوئی الف چھوڑتا ہے اور نہ کوئی واؤ، اس کی زبان ایسے چلتی ہے جیسے گائے کی زبان جگالی میں چلتی ہے لیکن قرآن اس کے حلق سے آگے نہیں بڑھتا۔
حواشی
(١) في [ب]: (سنان).
(٢) في [ب، ز، ك]: (منافق).
(٣) في [أ]: (يلقيه).
(٤) في [أ، ز، هـ]: (تلتفت)، وفي: [ص]: (تلففت).
(٥) في [ص، هـ]: (يتجاوز).