حدیث نمبر: 8967
٨٩٦٧ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن أبي وائل قال: جاء رجل من بني (يحيلة) (١) يقال له نهيك بن (سنان) (٢) إلى ابن مسعود فقال: يا أبا عبد الرحمن كيف تقرأ هذا الحرف أياء تجده أم الفًا (من ماء غير ياسن) (٣) أو (من (ماء) (٤) غير آسن) (قال) (٥): فقال له عبد اللَّه: وكل القرآن أحصيت غير هذا قال: فقال له: إني لأقرأ المفصل في ركعة قال: هذًا (كهذِّ) (٦) الشعر، إن قومًا يقرؤون القرآن لا (يجاور) (٧) تراقيهم، ولكن القرآن إذا وقع في القلب فرسخ (نفع) (٨) إن أفضل الصلاة الركوع والسجود، قال: وقال عبد اللَّه: إني لأعرف النظائر التي كان يقرأ بهن رسول اللَّه ﷺ (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو وائل کہتے ہیں کہ بنو بجیلہ کا ایک آدمی جس کا نام نہیک بن سنان تھا وہ حضرت ابن مسعود کے پاس آیا، اس نے کہا کہ اے ابو عبدا لرحمن ! آپ اس لفظ کو کیسے پڑھیں گے یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ یعنی { مِنْ مَائٍ غَیْرِ یَاسِنٍ } پڑھیں گے یا { مِنْ مَائٍ غَیْرِ آسِنٍ } حضرت عبد اللہ نے اس سے فرمایا کہ کیا تم نے اس مقام کے علاوہ باقی سارا قرآن مجید یاد کرلیا اور سمجھ لیا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں ایک رکعت میں مفصل کی تلاوت کرتا ہوں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ تم اشعار کی طرح قرآن کو بھی بغیر سوچے سمجھے پڑھتے ہو ! بعض لوگ ایسے ہیں جو قرآن کی تلاوت تو کرتے ہیں لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا، قرآن نفع تب دے گا جب دل میں اتر کر راسخ ہوجائے۔ افضل نماز وہ ہے جس میں ر کو ع اور سجدے زیادہ ہوں۔ حضرت عبداللہ نے یہ بھی فرمایا کہ میں ان سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تلاوت فرمایا کرتے تھے۔

حواشی
(١) في [ب، ك]: (بحيلة).
(٢) في: [ص] (سبار).
(٣) سقط من: [أ]، وفي [ط، هـ]: (ياسٍ).
(٤) سقط من: [ب].
(٥) في [أ، ز، ك] زيادة: (قال).
(٦) في [هـ]: (كذا).
(٧) في [أ، ط، هـ]: (يتجاوز).
(٨) في [أ]: (يقع).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8967
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٤٩٩٦)، ومسلم (٨٢٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8967، ترقيم محمد عوامة 8819)