مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في ثواب الصلاة على النبي ﷺ باب: حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے فضائل
٨٩٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: ثنا ثابت قال: قدم علينا سليمان مولى الحسن بن علي زمان الحجاج فحدثنا عن عبد اللَّه بن أبي طلحة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ جاء ذات يوم و (البشر) (١) (يرى) (٢) في وجهه فقلنا يا رسول اللَّه إنا لنرى البشرى في وجهك فقال: "أتاني الملك فقال: يا محمد إن ربك يقول أما يرضيك أن لا يصلي عليك أحد من أمتك إلا صليت عليه عشرًا ولا يسلم عليك (أحد) (٣) إلا سلمت عليه عشرًا قال: بلى" (٤).حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت آپ کے چہرہ مبارک سے خوشی کے آثار نمایاں تھے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آج ہم آپ کے چہرۂ مبارک پر خوشی کے آثار دیکھ رہے ہیں، کیا کوئی خاص بات پیش آئی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ میرے پاس فرشتہ آیا تھا۔ اس نے کہا اے محمد ! آپ کا رب کہتا ہے کہ کیا آپ اس بات پر راضی ہیں کہ اگر آپ کی امت کا کوئی شخص آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے تو میں اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کروں گا۔ اور جو کوئی آپ پر ایک مرتبہ سلام بھیجے تو میں اس پر دس مرتبہ سلامتی بھیجوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس پر راضی کیوں نہ ہوں۔