حدیث نمبر: 8903
٨٩٠٣ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي (يعفور) (١) عن أبي الصلت عن أبي عقرب الأسدي قال: أتينا ابن مسعود في داره فوجدناه فوق البيت فسمعناه يقول قبل أن ينزل: صدق اللَّه ورسوله، فقلنا له سمعناك تقول قبل أن تنزل صدق اللَّه ورسوله فقال: (إن) (٢) ليلة القدر في السبع من النصف الآخر وذلك أن الشمس تطلع يؤمئذ بيضاء لا شعاع لها فنظرت إلى الشمس فرأيتها كما (حدثت) (٣) فكبرت (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو عقرب اسدی کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے انہیں کمرے کی چھت پر موجود پایا، ہم نے سنا کہ وہ نیچے اترنے سے پہلے کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہم نے آپ کو سنا کہ آپ نے نیچے اترنے سے پہلے کہا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ شبِ قدر رمضان کے دوسرے نصف کے سات دنوں میں ہے، اس کی علامت یہ ہے کہ اس رات میں سورج جب طلوع ہوتا ہے تو سفید ہوتا ہے اور کرنوں کے بغیر ہوتا ہے۔ جب میں نے سورج کو دیکھا تو اسے اسی حالت میں پایا جس حالت مں ے مجھے بتایا گیا تھا، چناچہ میں نے خوشی سے اللہ کی کبریائی بیان کی۔

حواشی
(١) في [ك]: (يعقور).
(٢) سقط من: [أ، ز].
(٣) في [أ، ب، ز، ك]: (حدثت)، وفي [د، هـ]: (حدث).
(٤) مجهول؛ أبو الصلت وأبو عقرب مجهولان، أخرجه أحمد (٣٨٥٧)، والطيالسي (٣٩٤)، وأبو يعلى (٥٣٧١)، وذكره البخاري في التاريخ ٩/ ٦٢، وبحشل في تاريخ واسط (ص: ٨٩).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8903
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8903، ترقيم محمد عوامة 8756)