حدیث نمبر: 8902
٨٩٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع قال ثنا سفيان عن الأوزاعي عن مرثد بن أبي مرثد عن أبيه قال: كنت مع أبي ذر (عند) (١) الجمرة الوسطى، فسألته عن ليلة القدر فقال: كان أسأل الناس عنها رسول اللَّه ﷺ (أنا قلت: يا رسول اللَّه) (٢) ليلة القدر كانت تكون على عهد الأنبياء فإذا ذهبوا رفعت قال: "لا، ولكن تكون إلى يوم القيامة"، قال: قلت يا رسول اللَّه فأخبرنا بها قال: "لو أذن لي فيها لأخبرتكم ولكن ألتمسوها (إحدى السبعين) (٣) ثم لا تسألني عنها بعد مقامي أو مقامك هذا"، ثم أخذ في حديث فلما انبسط قلت يا رسول اللَّه أقسمت عليك إلا حدثتني بها قال أبو ذر: فغضب علي غضبة لم يغضب علي قبلها ولا بعدها مثلها (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مرثد فرماتے ہیں کہ میں جمرۂ وسطیٰ کے پاس حضرت ابو ذر غفاری کے پاس تھا۔ میں نے ان سے شبِ قدر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شب قدر کے بارے میں سب سے زیادہ سوال میں کیا کرتا تھا۔ ایک دن میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! شبِ قدر انبیاء کے زمانوں میں ہوتی ہے، جب انبیاء دنیا سے تشریف لے جاتے تو یہ رات بھی اٹھا لی جاتی تھی، کیا ایسا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں، بلکہ شبِ قدر قیامت تک باقی رہے گی۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! پھر مجھے اس کے بارے میں بتادیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے اس کے بتانے کی اجازت ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتادیتا۔ البتہ میں اتنا کہوں گا کہ تم اسے رمضان کی آخری سات راتوں میں سے ایک میں تلاش کرو۔ اب تم مجھ سے اس بارے میں سوال مت کرنا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری باتوں میں مشغول ہوگئے۔ جب آپ کی طبیعت مبارکہ میں مجھے انبساط محسوس ہوا تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میں آپ کو قسم دے کر عرض کرتا ہوں کہ آپ مجھے اس رات کے بارے میں بتا دیجئے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مجھ پر اتنا غصہ آیا کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد میں نے آپ کو اتنے غصے میں نہیں دیکھا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) سقط من: [س، ط، هـ].
(٣) في [ز، ك]: (أحد السبعين)، وفي [أ، ب]: (آخر السبعين)، وفي [ص، هـ]: (آخر السبع)، وعند ابن حبان (إحدى السبعين)، وفي كتاب الصيام من المصنف ٣/ ٧٤: (إحدى السبعين).
(٤) مجهول؛ لجهالة أبي مرثد، أخرجه أحمد (٢١٤٩٩)، والنسائي في الكبرى (٣٤٢٧)، وابن حبان (٣٦٨٣)، وابن خزيمة (٢١٦٩)، والحاكم ١/ ٣٠٦ و ٢/ ٥٧٨، والبزار (٤٠٦٧)، وابن عبد البر في التمهيد ٢/ ٢١٢، والبيهقي ٤/ ٣٠٧، وإسحاق ومسدد كما في المطالب (١١١٧)، وابن عبد البر في التمهيد ٢/ ٢١٣، والبيهقي ٤/ ٣٠٧، ونسبه في مجمع الزوائد ٣/ ١٧٧، للطبراني في الأوسط والكبير
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8902
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8902، ترقيم محمد عوامة 8755)