حدیث نمبر: 89
٨٩ - حدثنا ابن علية عن محمد بن إسحاق عن شيبة بن نصاح قال: صحبت القاسم بن محمد إلى مكة، فرأيته إذا توضأ للصلاة يدخل أصابع يديه بين أصابع رجليه. قال: (وهو يصب الماء) (١) عليها، فقلت له: يا أبا محمد لم تصنع هذا؟ قال: رأيت عبد اللَّه بن عمر يصنعه (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شیبہ بن نصاح کہتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد کے ساتھ مکہ تک کا سفر کیا۔ دوران وضو وہ اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو پاؤں کی انگلیوں میں ڈالتے اور ان پر پانی بہاتے۔ میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے حصرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یونہی کرتے دیکھا تھا۔

حواشی
(١) في [ب]: (لم يرد الماء).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 89
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن يحتمل الانقطاع، ابن إسحاق صدوق مدلس وقد عنعن.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 89، ترقيم محمد عوامة 89)