حدیث نمبر: 8896
٨٨٩٦ - حدثنا ابن علية عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن سالم بن أبي الجعد (الغطفاني) (١) عن معدان بن أبي طلحة اليعمري أن عمر بن الخطاب قام يوم جمعة خطيبا، أو خطبنا يوم جمعة فقال: يا أيها الناس إنكم تأكلون شجرتين لا أراهما إلا خبيثتين: هذا الثوم (وهذا) (٢) البصل، لقد كنت أرى الرجل على عهد رسول اللَّه ﷺ يوجد ريحه منه، فيؤخذ بيده حتى يخرج (به) (٣) إلى البقيع، فمن كان أكلهما لا بد (٤) (فليمتهما) (٥) طبخا (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! تم دو سبزیاں ایسی کھاتے ہو جو میرے خیال میں بری ہیں۔ ایک تھوم اور دوسری پیاز۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں اگر کوئی ان سبزیوں کو کھاتا اور اس کے منہ سے ان کی بدبو محسوس ہوتی تو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت البقیع کی طرف لے جایاجاتا تھا۔ اگر کسی نے انہیں کھانا بھی ہو تو انہیں پکا کر ان کی بو کو مار دے۔

حواشی
(١) في [ك]: (العطقاني).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) سقط من: [أ، ص].
(٤) في [هـ]: زيادة (له).
(٥) في [ب]: (فليمتها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8896
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٥٦٧)، وأحمد (٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8896، ترقيم محمد عوامة 8749)