مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان يكره إذا أكل بصلا أو ثوما أن يحضر المسجد باب: جن حضرات کے نزدیک پیاز یا تھوم کھا کر مسجد میں آنا مکروہ ہے
٨٨٩٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال العدوي عن أبي بردة عن الغيرة بن شعبة قال: أكلت ثوما ثم أتيت مصلى النبي ﷺ فوجدته ⦗٣٩٨⦘ قد سبقني بركعة، فلما قمت أقضي وجد ريح الثوم فقال: "من أكل من هذه البقلة فلا يقربن مسجدنا (١) حتى يذهب ريحها"، قال: مغيرة فلما قضيت الصلاة أتيته، فقلت: يا رسول اللَّه (إن لي عذرا فناولني) (٢) يدك، قال: فوجدته واللَّه سهلا فناولني يده (فأدخلتها) (٣) (في كمي) (٤) إلى صدري فوجده (معصوبا) (٥) فقال: "إن لك عذرًا" (٦).حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے تھوم کھایا اور پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں آگیا۔ جب میں مسجد میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ جب میں اپنی رکعت پوری کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تھوم کی بدبو محسوس ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ جو یہ سبزی کھائے وہ اس وقت تک مسجد میں نہ آئے جب تک اس کی بدبو ختم نہ ہوجائے۔ حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ جب میں نے نماز پوری کرلی تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میرا ایک عذر ہے، آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجئے۔ خدا کی قسم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت نرم مزاج پایا۔ آپ نے اپنا ہاتھ مجھے دیا تو میں نے آپ کے دست مبارک کو اپنے سینے پر پھیرا۔ آپ نے اسے بندھا ہوا پایا تو فرمایا کہ تمہیں واقعی عذر ہے۔