حدیث نمبر: 8894
٨٨٩٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال العدوي عن أبي بردة عن الغيرة بن شعبة قال: أكلت ثوما ثم أتيت مصلى النبي ﷺ فوجدته ⦗٣٩٨⦘ قد سبقني بركعة، فلما قمت أقضي وجد ريح الثوم فقال: "من أكل من هذه البقلة فلا يقربن مسجدنا (١) حتى يذهب ريحها"، قال: مغيرة فلما قضيت الصلاة أتيته، فقلت: يا رسول اللَّه (إن لي عذرا فناولني) (٢) يدك، قال: فوجدته واللَّه سهلا فناولني يده (فأدخلتها) (٣) (في كمي) (٤) إلى صدري فوجده (معصوبا) (٥) فقال: "إن لك عذرًا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے تھوم کھایا اور پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں آگیا۔ جب میں مسجد میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ جب میں اپنی رکعت پوری کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تھوم کی بدبو محسوس ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ جو یہ سبزی کھائے وہ اس وقت تک مسجد میں نہ آئے جب تک اس کی بدبو ختم نہ ہوجائے۔ حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ جب میں نے نماز پوری کرلی تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میرا ایک عذر ہے، آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجئے۔ خدا کی قسم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت نرم مزاج پایا۔ آپ نے اپنا ہاتھ مجھے دیا تو میں نے آپ کے دست مبارک کو اپنے سینے پر پھیرا۔ آپ نے اسے بندھا ہوا پایا تو فرمایا کہ تمہیں واقعی عذر ہے۔

حواشی
(١) في [ك] زيادة: (هذا).
(٢) في [هـ]: (هل لك أن تعطي).
(٣) في [ز]: (فأدخلها).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [ب]: (مغصوبًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8894
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٨٢٠٥)، وأبو داود (٣٨٢٦)، وابن خزيمة (١٦٧٢)، وابن حبان (٢٠٩٥)، والطحاوي (٤/ ٢٣٨)، والطبراني ٢٠/ (١٠٠٣)، والبيهقي ٣/ ٧٧، وسيأتي ٨/ ١١٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8894، ترقيم محمد عوامة 8747)