مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
في المرأة ترى في منامها ما يرى الرجل باب: اگر عورت بھی خواب میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا کرے؟
٨٨٧ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عبد العزيز بن رفيع عن عطاء وأبي سلمة بن عبد الرحمن ومجاهد قالوا: إن أم سليم قالت: يا رسول اللَّه، المرأة ترى في منامها ما يرى الرجل، أيجب عليها الغسل؟ قال: "هل تجد شهوة؟ "، قالت: لعله، قال: "هل تجد بللا؟ " قالت: لعله، قال: "فلتغتسل"، (فلقيتها) (١) نسوة فقلن (لها) (٢): (فضحتينا) (٣) عند رسول اللَّه ﷺ، فقالت: واللَّه ما كنت لأنتهي حتى أعلم، في حل أنا (أو) (٤) في حرام (٥).حضرت ام سلیم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر عورت خواب میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا اس پر غسل واجب ہے ؟ فرمایا کہ کیا اسے شہوت محسوس ہوئی ؟ عرض کیا شاید۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا وہ تری دیکھتی ہے ؟ عرض کیا شاید۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر اسے غسل کرنا چاہئے پھر کچھ عورتیں حضرت ام سلیم سے ملیں اور کہا کہ آپ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رسوا کردیا۔ وہ کہنے لگیں کہ میں حلال و حرام کا سوال کرنے سے باز نہیں رہ سکتی۔