مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في قوله (تعالى): ﴿حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى﴾ باب: فرمانِ باری تعالیٰ {حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃ الْوُسْطَی} (نمازوں کی پابندی کرو اور خاص طور پر درمیانی نماز کی) کی تفسیر
حدیث نمبر: 8831
٨٨٣١ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن ابن أبي ذئب عن الزبرقان عن زهرة قال: كنا جلوسًا في المسجد مع زيد بن ثابت (فسئل) (١) عن الصلاة الوسطى فقال: هي الظهر، فمر أسامة (فسئل) (٢) فقال: هي الظهر كان رسول اللَّه ﷺ يصليها بالهجير (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہرہ فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں حضرت زید بن ثابت کے ساتھ بیٹھے تھے، ان سے درمیانی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ حضرت اسامہ گذرے ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دوپہر کے وقت پڑھا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (فسأل).
(٢) في [هـ]: (فسأل).
(٣) مجهول؛ لجهالة زهرة، أخرجه أحمد (٢١٧٩٢)، وابن ماجة (٧٩٥)، والنسائي في الكبرى (٣٥٦)، والطيالسي (٦٢٨)، والبخاري في التاريخ ٣/ ٤٣٤، والبزار (٢٦١٨)، والطحاوي ١/ ١٦٧، والطبراني (٤٠٨)، والبيهقي ١/ ٤٥٨، والضياء (١٣١٢).