مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
في المرأة ترى في منامها ما يرى الرجل باب: اگر عورت بھی خواب میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 883
٨٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه عن زينب بنت أم سلمة (عن أم سلمة) (١) قالت: جاءت أم سليم إلى النبي ﷺ، فسألته عن المرأة ترى في منامها ما يرى الرجل؟ (فقال) (٢): "إذا رأت الماء؛ فلتغتسل"، فقلت ⦗١٧٥⦘ لها: فضحت النساء!، وهل تحتلم المرأة؟ فقال النبي ﷺ: "تربت يمينك (فبم) (٣) يشبهها ولدها إذن؟ " (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ اگر عورت بھی اپنے خواب میں دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ پانی دیکھے تو غسل کرے۔ میں نے ام سلیم سے کہا ” آپ نے عورتوں کو رسوا کردیا، کیا عورت کو احتلام ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” تمہارا ناس ہو بچہ پھر ماں کے مشابہ کیوں ہوتا ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ]، وفي [د، هـ]: (عن سلمة).
(٢) في [أ، خ]: (قال).
(٣) في [جـ، خ، د، هـ]: (فبما) وفي [أ، ك]: (فيما).