مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في القرآن في كم يختم باب: قرآن مجید کو کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہئے
٨٨١٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن يعلى الطائفي عن عثمان بن عبد اللَّه بن أوس الثقفي عن جده أوس بن حذيفة قال: قدم على رسول اللَّه ﷺ (١) وفد ثقيف قال: فانزلنا في قبة له ونزل إخواننا الأحلاف على مغيرة بن شعبة قال (فكان) (٢) رسول اللَّه ﷺ يأتينا بعد العشاء فيحدثنا وكان أكثر حديثه (تشكيَهُ) (٣) قريشًا ويقول: "ولا (سواء، كنا) (٤) بمكة (٥) مستضعفين مستذلين"، فلما أتينا المدينة كانت الحرب سجالا علينا ولنا؛ قال: فأبطأ علينا ذات ليلة فأطول؛ فقلنا يا رسول اللَّه (أبطات علينا، فقال) (٦): "إنه طرأ علي حزب من القرآن فكرهت أن أخرج حتى أقضيه"، فسالنا أصحاب رسول اللَّه ﷺ (كيف) (٧) كان رسول اللَّه ﷺ يحزب القرآن؟ فقالوا: كان يحزبه ثلاثًا وخمسًا وسبعًا وتسعًا وإحدى عشرة (وثلاث عشرة) (٨) وحزب المفصل (٩).حضرت اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ثقیف کے وفد کے ساتھ حاضر ہوئے۔ آپ نے ہمیں ایک قبہ میں ٹھہرایا۔ ہمارے کچھ حلیف بھائی حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس ٹھہرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس عشاء کے بعد تشریف لایا کرتے تھے۔ آپ کی اکثر گفتگو قریش کی شکایات پر مشتمل ہوتی تھی۔ آپ فرماتے کہ دونوں جگہ پریشانی ہے، مکہ میں کمزور اور لاچار تھے، مدینہ آئے تو لڑائیوں نے ہمیں گھیر لیا ہے، کچھ ہمارے خلاف جاتی ہیں اور کچھ ہمارے حق میں۔ ایک رات آپ نے تشریف لانے میں دیر کردی، جب آپ تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آج آپ نے تشریف لانے میں دیر کردی ! آپ نے فرمایا کہ میرے روز کی تلاوت کے معمول میں کچھ کمی رہ گئی تھی اور مجھے یہ بات پسند نہ تھی کہ میں اسے پورا کیے بغیر جاؤں۔ ہم نے صحابہ کرام سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزانہ کتنا قرآن پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ آپ قرآن مجید کو تین، پانچ، سات، نو، گیارہ، تیرہ اور حزب المفصل میں تقسیم فرماتے تھے۔