حدیث نمبر: 8769
٨٧٦٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن الزبرقان قال: قلت لأبي رزين أن عندي مصحفًا أريد أن أختمه بالذهب وأكتب عند أول (كل) (١) سورة آية كذا وكذا قال أبو رزين: لا (تزيدوا) (٢) فيه شيئًا من الدنيا قل أو كثر.مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبرقان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو رزین سے کہا کہ میرے پاس ایک مصحف ہے میں اسے سونے کا پانی چڑھا نا چاہتا ہوں اور یہ چاہتا ہوں کہ میں ہر سورت کے شروع میں لکھوں کہ یہ اتنی اتنی آیت ہے۔ ابو رزین نے فرمایا کہ قرآن مجید میں دنیا کی کسی تھوڑی یا زیادہ چیز کا اضافہ مت کرو۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ك، هـ].
(٢) في [ص، ز]: (تزيدن).