حدیث نمبر: 8764
٨٧٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن يحيى (عن) (١) مسروق عن عبد اللَّه (بن مسعود) (٢) أنه كره التعشير في المصحف (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مصحف کی تعشیر کو مکروہ قرار دیا ہے۔ (قرآن مجید کی تعشیر کا معنی یہ ہے کہ قرآن مجید کے اجزائ، سپارے اور ربع، نصف ، ثلث وغیرہ بنائے جائیں۔ اسلاف اس عمل کو ناپسند فرماتے تھے کیونکہ حواشی کی وجہ سے ان چیزوں کے بارے میں خطرہ تھا کہ قرآن کا حصہ بن جائیں گی جو درحقیقت قرآن مجید کا حصہ نہیں۔ البتہ جب یہ خوف ختم ہوگیا تو کراہیت بھی زائل ہوگئی۔ اب کئی سالوں سے مسلمانوں کا عمل تعشیر پر ہے۔ )
حواشی
(١) في [ص]: (عن)، وفي [أ، ك، هـ]: (بن).
(٢) في [ز]: زيادة: (ابن مسعود).