حدیث نمبر: 8715
٨٧١٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن شرحبيل عن جابر قال: أقبلنا مع رسول اللَّه ﷺ من الحديبية حتى إذا كنا بالصهباء قال: معاذ من يسقينا في أسقيتنا قال فخرجت في فتيان معي حتى (أتينا) (١) (الأثاية) (٢) (فأسقينا) (٣) واستقينا فلما كان بعد عتمة من الليل فإذا رجل (ينازعه) (٤) بعيره الماء قال: فإذا رسول اللَّه ﷺ فأخذت راحلته فأنختها فتقدم فصلى العشاء وأنا عن يمينه ثم صلى ثلاث عشرة ركعة (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ سے واپس آرہے تھے ، جب ہم مقام صہباء پر پہنچے تو حضرت معاذ نے فرمایا کہ ہمیں پانی کون پلائے گا ؟ اس پر میں کچھ نوجوانوں کے ساتھ نکلا اور ہم نے اثایہ سے پانی خود بھی پیا اور برتنوں میں بھی بھرا۔ جب رات کا اندھیرا ہوگیا تو ایک آدمی پانی پر اپنے اونٹ سے الجھ رہا تھا۔ میں نے دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ میں نے آپ کی سواری کو پکڑ کر بٹھا دیا۔ آپ آگے بڑھے اور آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی، میں آپ کے دائیں طرف تھا۔ پھر آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں۔

حواشی
(١) في [ب، هـ]: (أدركنا).
(٢) في [أ]: (الأثابة).
(٣) في [ز، ك]: (فاستقينا).
(٤) في [س، ط، هـ]: (ينادي من).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8715
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف شرحبيل، أخرجه أحمد (١٥٠٦٤)، وابن حبان (٢٦٢٨)، وابن خزيمة (١١٦٥)، والبزار (٧٢٩ كشف)، وأبو يعلى (٢٢١٦)، وعبد الرزاق (٤٧٠٥)، وأخرج نحوه مسلم (٣٠١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8715، ترقيم محمد عوامة 8575)