مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في من أدرك ركعة من المغرب باب: جس شخص کو مغرب کی ایک رکعت ملے اس کے لئے کیا حکم ہے؟
٨٧١٠ - حدثنا هشيم قال: أنا مغيرة عن إبراهيم أن جندبًا ومسروقًا خرجا يريدان صلاة المغرب فأدركا مع الإمام ركعة فلما سلم الإمام جلس مسروق في الركعة الثانية (ولم) (١) يجلس جندب قال: وقرأ جندب في الركعة التي أدرك ولم يقرأ مسروق فأتيا ابن مسعود فذكرا له ما صنعا فقال عبد اللَّه: كلاكما قد أحسن وأفعل كما فعل مسروق (٢) (٣).ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت جندب اور حضرت مسروق ایک مرتبہ مغرب کی نماز کے ارادے سے نکلے، ان دونوں حضرات کو امام کے ساتھ مغرب کی ایک رکعت ملی، جب امام نے سلام پھیرا تو اپنی باقی نماز کی ادائیگی کے دوران حضرت مسروق دوسری رکعت کے بعد بیٹھ گئے، جبکہ حضرت جندب نہ بیٹھے۔ جو رکعت امام کے ساتھ ملی تھی اس میں حضرت جندب نے قرائت کی لیکن حضرت مسروق نے قراءت نہ کی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ان دونوں حضرات کے عمل کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ دونوں نے اچھا کیا لیکن میں وہ کروں گا جو مسروق نے کیا ہے۔