حدیث نمبر: 8689
٨٦٨٩ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن صدقة عن ابن عمر عن النبي ﷺ قال: "إن المصلي إذا صلى يناجي ريه فليعلم أحدكم (بما) (١) يناجيه ولا (يجهر) (٢) بعضكم على بعض" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نمازی جب نماز پڑھتا ہے تو اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، پس تم میں سے ہر ایک کو جان لینا چاہئے کہ وہ کس سے مناجات کررہا ہے، لہٰذا نماز میں آپس کی باہمی گفتگو کی طرح آواز اونچی نہ کرو۔

حواشی
(١) في [ب، هـ]: (بمن)
(٢) في [أ]: (تجهر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8689
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ابن أبي ليلى، أخرجه أحمد (٥٣٤٩)، وابن خزيمة (٢٢٣٧)، والبزار (٧٢٦/ كشف)، والطبراني (١٣٥٧٢)، والسهمي في أخبار جرجان من ١١٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8689، ترقيم محمد عوامة 8549)