مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الرجل يصلي ثم يقوم يدعو باب: کیا کوئی آدمی نماز پڑھنے کے بعد کھڑے ہوکر دعا کرسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 8681
٨٦٨١ - حدثنا ابن نمير عن جويبر عن الضحاك عن عبد اللَّه أنه بلغه أن قومًا يذكرون اللَّه قياما فأتاهم فقال: ما هذه (النكرى) (١) قالوا سمعنا اللَّه يقول: ﴿(فَاذْكُرُوا)﴾ (٢) (اللَّهَ) (٣) قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى (جُنُوبِكُمْ) (٤)﴾ [النساء: ١٠٣]، فقال: إنما هذا إذا لم يستطغ الرجل أن يصلي قائما صلى قاعدًا (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ حضرت عبدا للہ کو خبر ملی کہ کچھ لوگ کھڑے ہوکر اللہ کا ذکر کرتے ہیں، وہ ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ کیسا عجیب کام ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا ہے : اللہ کا ذکرکرو کھڑے ہونے کی حالت میں، بیٹھے ہوئے ہونے کی حالت میں اور اپنے پہلو کے بل لیٹے ہوئے۔ حضرت عبدا للہ نے فرمایا کہ یہ حکم تو اس وقت ہے جب آدمی کھڑے ہوکر نما ز پڑھنے کی طاقت نہ رکھے تو بیٹھ کر نما زپڑھ لے۔
حواشی
(١) في [ص]: (الذكرى).
(٢) في [ف]: (يذكرون).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) في [هـ]: (جنوبهم).