حدیث نمبر: 8645
٨٦٤٥ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا الكلبي عن أبي صالح عن ابن (عباس) (١) قال: لما (نزل) (٢) نكاح زينب، انطلق زيد بن حارثة حتى استأذن على زينب قال فقالت زينب: ما لي ولزيد قال: فأرسل إليها فقال: إني رسول رسول اللَّه ﷺ إليك قال فأذنت له فبشرها أن اللَّه قد زوجها من نبيه ﷺ قال: فخرت ساجدة (للَّه شكرا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب ام المؤمنین حضرت زینب کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکاح کی آیت نازل ہوئی تو حضرت زید بن حارثہ نے حضرت زینب سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ ان کی آواز سن کر حضر ت زینت نے کہا کہ میرا اور زید کا کیا واسطہ ؟ انہوں نے پیغام بھیجا اور کہا کہ میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قاصد ہوں اور آپ کے پاس ایک پیغام لے کر آیا ہوں ۔ انہوں نے حضرت زید کو اندر آنے کی اجازت دے دی تو حضرت زید نے حضرت زینب کو یہ خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نکاح اپنے نبی سے کردیا ہے۔ یہ سن کر حضرت زینب اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لے سجدہ میں پڑگئیں۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ك]: (عياش).
(٢) في [أ، ب، ك]: (ترك).
(٣) في [ك، ز]: (شكرًا للَّه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8645
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ الكلبي متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8645، ترقيم محمد عوامة 8506)